Sep 262012
 

’’لوگوں کی نگاہوں میں مرغوبات دنیا:عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، چوپائے اور کھیتی کھبادی گئی ہیں۔ یہ دنیوی زندگی کا سروسامان ہیں اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔ان سے کہو کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز کا پتابتادوں؟جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن میں نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہوگی‘‘، -آل عمران15:3-14

قرآن کریم کی اس آیت میں مرغوباتِ دنیا کی جو فہرست بیان کی گئی ہے، اس میں سرِ فہرست عورتوں کی محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بات کو کسی اور نے سمجھا ہو یا نہیں ، میڈیا کے لوگوں نے خوب سمجھا ہے۔

دور جدید میں الیکٹرونک میڈیا ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تعلیم، معلومات اور تفریح کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں، جہاں مطالعہ کا زیادہ رجحان نہیں اور شرحِ خواندگی بھی کم ہے، وہاں الیکٹرونک میڈیا ہی لوگوں کی دلچسپی کا اصل مرکز ہے۔مگر بدقسمتی سے یہ دور جدید میں عورتوں کی نمائش اور عریانی پھیلانے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ فلم اور ڈرامہ بنانے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی فلم اور ڈرامے کو لوگوں کی بڑی تعداد دیکھے۔اسی طرح ٹی وی چینل چلانے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے چینل کے ناظرین اکثریت میں ہوں۔ ایک ناظر کی توجہ حاصل کرنے کا سب سے سہل اور آسان نسخہ یہ ہوتا ہے کہ خوبصورت خواتین کو میک اپ اور روشنی کے ذریعے سے خوب تر بناکر اسکرین پر لایا جائے۔ان کی نسوانیت اور صنفی کشش کو ابھار کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان کے ناز و انداز اور غمزہ و ادا کے ذریعے سے لوگوں کو ان کے شوق میں مبتلا کیا جائے۔ان کے جسم کی نمائش کرکے ویورشپ (Viewer ship) کو بڑھایا جائے۔ عاشقانہ اور فحش مناظر سے ناظر کی توجہ حاصل کی جائے۔ اور ضرورت پڑے تو فنکارہ کوبے لباس کرکے فن کی ’’خدمت‘‘ کرائی جائے۔

الیکٹرونک میڈیا کے اس دور میں اب گھر گھر ٹی وی اور کیبل موجود ہے۔ہر طرح کی فلمیں بازار میں عام ملتی ہیں۔ ان کو چلانے کے بہترین آلات، وی سی آر، سی ڈی پلےئیر اور ڈی وی ڈی پلئیر کی شکل میں انتہائی کم قیمت پر بازار میں دستیاب ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد صبح و شام الیکٹرونک میڈیا سے استفادہ کرتی ہے۔اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، میڈیا پردکھائی جانے والی شے اکثر وبیشترعورت ہی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ ایک انسان کے اندر سے حیا کے فطری جذبے کو مغلوب کردیتا ہے ۔ انسان کے حیوانی جذبات اس پر غالب آجاتے ہیں۔آہستہ آہستہ عفت کا احساس ختم ہونے لگتا ہے ۔زنا اور فحاشی انسان کو ایک معمولی عمل لگنے لگتا ہے۔

اس صورتحال کا ایک حل یہ نکالا گیا ہے کہ گھر سے ٹی وی کو نکال دیا جائے۔ یہ بظاہر مکمل حل ہے۔ مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ حل اکثریت کے لیے ناقابل عمل ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں مزید ناقابل عمل ہوجائے گا کیونکہ دور جدید میں الیکٹرونک میڈیا کو روک دینا کسی طور پر بھی ممکن نہیں رہا ہے۔

اس صورتحال کا حل وہی ہے جو مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں میں سے باشعور لوگوں نے اپنے بچوں کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔یعنی فرد کی تربیت کی جائے ۔ایمان و اخلاق کو اس کے رگ و پے میں اتاراجائے۔اپنی تہذیب، اقدار، روایات اور فطرت میں موجود پاکیزہ جذبات کو ابھارا جائے۔ حیا اور عفت کی اہمیت دل و دماغ میں راسخ کی جائے۔زنا کے نقصانات اور اس کی شناعت کو اجاگر کیا جائے۔ نیز نکاح کے فطری تعلق سے ،جتنا جلدی ہوسکے، نوجوانوں کو وابستہ کرنے کی تحریک برپا کی جائے۔

ان سب کے ساتھ لوگوں کو اس حوالے سے تعلیم دی جائے کہ اللہ کی جنت تقویٰ کے بغیر نہیں مل سکتی۔یہ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان ہمیشہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سائے میں زندہ رہے گا۔دنیا میں جتنی بھی نعمتیں پائی جاتی ہیں وہ جنت میں کہیں زیادہ بہتر بناکر انسان کودے دی جائیں گی۔

انسان ذہنی طور پر بہت طاقتور مخلوق ہے۔جب وہ کسی شے کے بارے میں ایک نقطہ نظر قائم کرلیتا ہے تو بنیادی جبلی جذبات پر بھی قابو پالیتا ہے ۔ اس کا ایک نمونہ رمضان کے روزے ہیں جب لوگ اللہ کے لیے کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ جب انسانوں کی تربیت اس طرح کی جائے گی تووہ خودکو اور اپنے اہل خانہ کوالیکٹرونک میڈیا کی پھیلائی ہوئی اس آلودگی سے بچانے کے قابل ہوجائیں گے۔

Enhanced by Zemanta
Feb 022012
 

“بےشک الله اور اس کے فرشتے نبی پاک صلی الله علیه وسلم پر درود و سلام بھیجتے ھیں اے ایمان والو ! تم بھی نبی پاک صلی الله علیه وسلم پر خوب درود اور سلام بھیجا کرو-

( سورة الاحزاب آیت نمبر 56)

 

اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ

كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ

إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ

كما باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ

إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ

 Posted by at 9:00 am
Mar 022011
 

تیمم” ) تیمم٥ھ میں مشروع ہوا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:  فلم تجدوا ماء فتیمموا صعید اطیبا فامسحو ابوجو ھکم وایدیکم منہ ” تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ اس زمین(کی جنس) پر سے (مار کر) پھیر لیا کرو” ۔ (وضو اور غسل کا قائم مقام ہے۔ لغت میں تیمیم کے معنی ‘قصد”  کے آتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں تیمم سے مراد ہے پاک مٹی کا قصد کرنا یا اس چیز کا قصد کرنا جو مٹی کے قائم مقام ہو جیسے پتھر اور چونا وغیرہ اور طہارت کی نیت کے ساتھ اسے ہاتھ اور منہ پر ملنا۔
اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ تیمیم کے لیے دو ضربیں یا ایک ضرب ہے؟ چنانچہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، حضرت امام ابو یوسف، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں ہیں یعنی پاک مٹی یا اس کے قائم مقام مثلاً پاک چونے اور پتھر وغیرہ پر دو فعہ ہاتھ مارنا چاہئے ایک ضرب تو منہ کے لیے ہے اور دوسری ضرب کہنیوں تک دونوں ہاتھوں کے لیے۔ حضرت امام شافعی کا بھی مختار مسلک یہی ہے اور بعض حنابلہ کا بھی یہی مسلک ہے۔
لیکن حضرت امام احمد بن حنبل کا مشہور مسلک اور حضرت امام شافعی کا قدیم قول یہ ہے کہ تیمیم ایک ہی ضرب ہے یعنی تیمم کرنے والے کو چاہئے کہ ایک ہی مرتبہ پاک مٹی وغیرہ پر ہاتھ مار کر اسے منہ اور کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر پھیر لے، حضرت امام اوزاعی، عطاء اور مکحول سے بھی یہی منقول ہے۔ دونوں فریقین کے مذہب و مسلک کی تائید میں احادیث منقول ہیں جو آگے انشاء  اللہ  آئیں گی اور جن کی حسب موقع فائدہ و توضیح بھی کی جائے گی۔ اس موقعہ پر مناسب ہے کہ تیمیم کے کچھ احکام اور وہ صورتیں ذکر کر دی جائیں جن میں تیمیم جائز ہے تیمم حسب ذیل صورتوں میں جائز ہوتا ہے۔
(١) اتنا پانی جو وضو اور غسل کے لیے کافی ہو اپنے پاس موجود نہ ہو بلکہ ایک میل یا ایک میل سے زائد فاصلے پر ہو۔
(٢) پانی جو موجود تو ہو مگر کسی کی امانت ہو یا کسی سے غصب کیا ہوا ہو۔
(٣) پانی کے نرخ کا معمول سے زیادہ گراں ہو جانا۔
(٤) پانی کی قیمت کا موجود نہ ہونا خواہ پانی قرض مل سکتا ہو یا نہیں، قرض لینے کے صورت میں اس پر قادر ہو یا نہ ہو، ہاں اگر اپنی ملکیت میں مال ہو اور ایک مدت معینہ کے وعدے پر قرض مل سکتا ہو تو قرض لے لینا چاہئے۔
(٥) پانی کے استعمال سے کسی مرض کے پیدا ہو جانے یا بڑھ جانے کا خوف ہو یا یہ خوف ہو کہ اگر پانی استعمال کیا جائے گا تو صحت یابی میں دیر ہو گی۔
(٦) سردی اس قدر شدید ہو کہ پانی کے استعمال سے کسی عضو کے ضائع ہو جانے یا کسی مرض کے پیدا ہو جانے کا خوف ہو اور گرم پانی ملنا ممکن نہ ہو۔
(٧) کسی دشمن یا درندے کا خوف ہو مثلاً پانی ایسی جگہ ہو جہاں درندے وغیرہ آتے ہوں یا موجود ہوں یا راستے میں چوروں کا خوف ہو، یا اپنے اوپر کسی کا قرض ہو، یا کسی سے عداوت اور یہ خیال ہو کہ اگر پانی لینے جاؤں گا تو قرض خواہ مجھ کو پکڑ لے گا، یا کسی قسم کی تکلیف دے گا، یا پانی کسی غنڈے اور فاسق کے پاس ہو اور  عورت کو اس کے حاصل کرنے میں اپنی بے حرمتی کا خوف ہو۔
(٨) پانی کھانے پینے کی ضرورت کے لیے رکھا ہو کہ اسے وضو یا غسل میں خرچ کر دیا جائے تو اس ضرورت میں حرج ہو مثلاً آٹا گوندھنے یا گوشت وغیرہ پکانے کے لیے رکھا ہو، یا اپنی اس قدر ہو کہ اگر وضو غسل میں صرف کر دیا جائے تو پیاس کا خوف ہو خواہ اپنی پیاس کا یاکسی دوسرے کی پیاس کا، یا اپنے جانوروں کی پیاس کا ، بشر طیکہ کوئی ایسی تدبیر نہ ہو سکے کہ مستعمل پانی جانوروں کے کام آسکے۔
(٩) کنوئیں سے پانی نکالنے کی کوئی چیز نہ ہو اور نہ کوئی کپڑا ہو کہ اسے کنوئیں میں ڈال کر تر کرے اور پھر اس سے نچوڑ کر طہارت حاصل کرے، یا پانی مٹکے وغیرہ میں ہو اور کوئی چیز پانی نکالنے کے لیے نہ ہو اور نہ مٹکا جھکا کر پانی لے سکتا ہو، نیز ہاتھ نجس ہوں اور کوئی دوسرا ایسا آدمی نہ ہو جو پانی نکال کر دے یا اس کے ہاتھ دھلا دے۔
(١٠) وضو یا غسل کرنے میں ایسی نماز کے چلے جانے کا خوف ہو جس کی قضا نہیں ہے جیسے عید ین یا جنازے کی نماز۔
(١١) پانی کا بھول جانا مثلاً کسی آدمی کے پاس پانی تو ہے مگر وہ اسے بھول گیا ہو اور اس کا خیال ہو کہ میرے پاس پانی نہیں ہے۔
تیمم کرنے کا مسنون و مستحب طریقہ درج ذیل ہے:
پہلے بسم  اللہ  پڑھ کر تیمم کی نیت کی جائے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کسی ایسی مٹی پر جس کو نجاست نہ پہنچی ہو یا اس کی نجاست دھو کر زائل کر دی گئی ہو، ہتھیلیوں کی جانب سے کشادہ کر کے مار کر ملے اس کے بعد ہاتھوں کو اٹھا کر ان کی مٹی جھاڑ ڈالے اور پھر پورے دونوں ہاتھوں کو اپنے پورے منہ پر ملے اس طرح کہ کوئی جگہ ایسی باقی نہ رہ جائے جہاں ہاتھ نہ پہنچے۔ پھر اسی طرح دونوں ہاتھوں کو مٹی پر مار کر ملے پھر ان کی مٹی جھاڑ ڈالے اور بائیں ہاتھ کی تین انگلیاں سوائے کلمہ کی انگلی اور انگوٹھے کے، داہنے ہاتھ کے انگلیوں کے سرے پر پشت کی جانب رکھ کر کہنیوں تک کھینچ لائے اس طرح کہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی بھی لگ جائے اور کہنیوں کا مسح بھی ہو جائے پھر باقی انگلیوں کو اور ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسری جانب رکھ کر انگلیوں تک کھنچا جائے، اسی طرح بائیں ہاتھ کا بھی مسح کرے۔ وضو اور غسل دونوں کے تیمم کا یہی طریقہ ہے اور ایک ہی تیمم دونوں کے لیے کافی ہے۔ اگر دونوں کی نیت کر لی جائے۔
تیمم کے کچھ احکام و مسائل یہ ہیں۔) یہ تمام مسائل عبدالشکور لکھنوی کی کتاب سے ماخوذ ہیں۔ (
(١) تیمم کے وقت نیت کرنا فرض ہے اور نیت کی شکل یہ ہے کہ جس حدیث کے سبب سے تیمم کیا جائے اس سے طہارت کی نیت کی جائے یا جس چیز کے لیے تیمم کیا جائے اس کی نیت کی جائے مثلاً اگر نماز جنازہ کے لیے تیمم کیا جائے یا قرآن مجید کی تلاوت کے لیے تیمم کیا جائے تو اس کی نیت کی جائے مگر نماز اسی تیمم سے صحیح ہوگی جس میں حدث سے طہارت کی نیت کی جائے یا کسی ایسی عبادت مقصودہ کی نیت کی جائے جو بغیر طہارت کے نہیں ہوسکتی۔
(٢) تیمم کرتے وقت اعضاء تیمم سے ایسی چیزوں کو دور کر دینا فرض ہے جس کی وجہ سے مٹی جسم تک نہ پہنچ سکے جیسے روغن یا چربی وغیرہ۔
(٣) تنگ انگوٹھی تنگ چھلوں اور چوڑیوں کو اتار ڈالنا واجب ہے۔
(٤) اگر کسی قرینے سے پانی کا قریب ہونا معلوم ہو تو اس کی تلاش میں سو قدم تک خود جانا یا کسی کو بھیجنا واجب ہے۔
(٥) اگر کسی دوسرے آدمی کے پاس پانی موجود ہو اور اس سے ملنے کی امید ہو تو اس سے طلب کرنا واجب ہے۔
(٦) اس ترتیب سے تیمم کرنا سنت ہے جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا ہے یعنی پہلے منہ کا مسح پھر دونوں ہاتھوں کا مسح۔
(٧) منہ کے مسح کے بعد داڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔
(٨) جس آدمی کوآخر وقت تک پانی ملنے کا یقین یا گمان غالب ہو تو اس کو نماز کے اخیر وقت تک پانی کا انتظام کرنا مستحب ہے مثلاً کنوئیں سے پانی نکالنے کی کوئی چیز نہ ہو اور یہ یقن یا گمان غالب ہو کہ آخر وقت رسی اور ڈول مل جائیں گے۔ یا کوئی آدمی ریل پر سوار ہو اور یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ نماز کے آخر وقت ریل ایسے اسٹیشن پر پہنچ جائے گی جہاں پانی مل سکتا ہے۔
(٩) تیمم نماز کے وقت کے تنگ ہو جانے کی صورت میں واجب ہوتا ہے۔ شروع وقت میں واجب نہیں ہوتا۔
(١٠) نماز کا اس قدر وقت ملے کہ جس میں تیمم کر کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو تو تیمم واجب ہوتا ہے اور اگر وقت نہ ملے تو تیمم واجب نہیں۔
(١١) جن چیزوں کے لیے وضو فرض ہے ان کے لیے وضو کا تیمم بھی فرض ہے۔ اور جن چیزوں کے لیے وضو واجب ہے ان کے لیے وضو کا تیمم بھی واجب ہے اور جن چیزوں کے لیے وضو سنت یا مستحب ان کے لیے وضو کا تیمم بھی سنت اور مستحب ہے، یہی حال غسل کا بھی ہے۔
(١٢) اگر کوئی آدمی حالت جنابت میں ہو اور مسجد میں جانے کی اسے سخت ضرورت ہو تو اس پر تیمم کرنا واجب ہے۔
(١٣) جن عبادتوں کے لیے حدث اکبر (یعنی جنابت) اور حدث اصغر (یعنی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) سے طہارت شرط نہیں ہے۔ جیسے سلام و سلام کا جواب وغیرہ ان کے لیے وضو و غسل دونوں کا تیمم بغیر عذر کے ہو سکتا ہے اور جن عبادتوں میں صرف حدث اصغر سے طہارت شرط نہ ہو جیسے تلاوت قرآن مجید اور اذان وغیرہ ان کے لیے صرف وضو کا تیمم بغیر عذر ہو سکتا ہے۔
(١٤) اگر کسی کے پاس مشکوک پانی ہو جیسے گدھے کا استعمال کردہ پانی تو ایسی حالت میں پہلے اگر وضو کی ضرورت ہو تو وضو، غسل کی ضرورت ہو تو غسل کیا جائے اس کے بعد تیمم کیا جائے۔
(١٥) اگر وہ عذر جس کی وجہ سے تیمم کیا گیا ہے آدمیوں کی طرف سے ہو تو جب وہ عذر جاتا رہے تو جس قدر نمازیں اس تیمم سے پڑھی ہیں سب کو دوبارہ پڑھنا چاہئے۔ مثلاً کوئی آدمی جیل میں ہو اور جیل کے ملازم اس کو پانی نہ دیں یا کوئی آدمی اس سے کہے کہ اگر تو وضو کرے گا تو تجھ کو مار ڈالوں گا۔
(١٦) ایک جگہ سے اور ایک ڈھیلے سے چند آدمی یکے بعد دیگرے تیمم کریں تو درست ہے۔
(١٧) جو آدمی پانی اور مٹی دونوں پر قادر نہ ہو خواہ پانی مٹی نہ ہونے کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے تو اس کو چاہئے کہ نماز بلا طہارت پڑھ لے پھر اس نماز کو طہارت سے لوٹا لے مثلاً کوئی آدمی ریل میں سوار ہے اور نماز کا وقت ہوگیا ہے مگر نہ تو پانی موجود ہے کہ وہ وضو کرے اور نہ مٹی یا اس قسم کی کوئی دوسری چیز ہے جس سے وہ تیمم کر سکے، ادھر نماز کا وقت بھی ختم ہوا جا رہا ہے تو اسے چاہئے کہ ایسی حالت میں بلا طہارت نماز پڑھ لے۔ اسی طرح کوئی آدمی جیل میں ہو اور وہ پاک پانی اور مٹی پر قادر نہ ہو تو وہ بے وضو اور بے تیمم نماز پڑھ لے گا مگر ان دونوں صورتوں میں نماز کا اعادہ ضروری ہوگا۔

 

مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 493
5 – تیمم کا بیان : (9)
تیمم کا بیان


Aug 112010
 

O Allah, on this day make my fasts the fasts of those who fast (sincerely), and my standing up in prayer of those who stand up in prayer (obediently), awaken me in it from the sleep of the heedless, and forgive me my sins , O God of the worlds, and forgive me, O one who forgives the sinners



O Allah, on this day, take me closer towards Your pleasure, keep me away from Your anger and punishment, grant me the opportunity to recite Your verses (of the Qur’an), by Your mercy, O the most Merciful.


O Allah, on this day, grant me wisdom and awareness, keep me away from foolishness and pretention, grant me a share in every blessing You send down, by You generosity, O the most Generous.


O Allah, on this day, strengthen me in carrying out Your commands, let me taste the sweetness of Your remembrance, grant me, through Your graciousness, that I give thanks to You. Protect me, with Your protection and cover, O the most discerning of those who see.


O Allah, on this day, place me among those who seek forgiveness. Place me among Your righteous and obedient servants, and place me among Your close friends, by Your kindness, O the most Merciful


O Allah, on this day, do not let me abase myself by incurring Your disobedience, and do not strike me with the whip of Your punishment, keep me away from the causes of Your anger, by Your kindness and Your power, O the ultimate wish of those who desire.


O Allah, on this day, help me with its fasts and prayers, and keep me away from mistakes and sins of the day, grant me that I remember You continuously through the day, by Your assistance, O the Guide of those who stray.


O Allah, on this day, let me have mercy on the orphans, and feed [the hungry], and spread peace, and keep company with the noble­minded, O the shelter of the hopeful.


O Allah, on this day, grant me a share from Your mercy which is wide, guide me towards Your shining proofs, lead me to Your all encompassing pleasure, by Your love, O the hope of the desirous.


O Allah, on this day, make me, among those who rely on You, from those who You consider successful, and place me among those who are near to you, by Your favour, O goal of the seekers.

 Posted by at 2:05 am
Jul 202010
 

Note down what Ibadat you can do on Shab-e-Barat.

Start your Ibadat with Tilawat-e-Quran.

Sora YASIN 8 times
Sora Aldekhan 8 times.
If don’t have much time than recite first 8 Ayat of these 2 Soras 30 times.

100 times Dua of Hazarat Younis (if have much time than read 1000 times)

100 times Tasbih of Astagfar

100 times Darod Pak

and Slat o Tasbih

and 8 Nafal minimum (maxium as much as u can)

Pray for me as well please