جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کيا

Published by Prince on Tagged Poetry

سوزِ غم دے کے مجھے اس نے يہ ارشاد کيا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کيا


وہ کريں بھي تو کن الفاظ ميں تيرا شکوہ
جن کو تيري نگہِ لطف نے برباد کيا

دل کي چوٹوں نے کبھي چين سے رہنے نہ ديا
جب چلي سرد ہوا، ميں نے تجھے ياد کيا


اے ميں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثار
پھر تو فرمائيے، کيا آپ نے ارشاد کيا


اس کا رونا نہيں کيوں تم نے کيا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دير ميں برباد کيا


اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلي جب چٹکي
جھک کے ميں نے يہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کيا


مجھ کو تو ہوش نہيں تم کو خبر ہو شايد
لوگ کہتے ہيں کہ تم نے مجھے برباد کيا


سوزِ غم دے کے مجھے اس نے يہ ارشاد کيا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کيا



Leave a Comment